12 اکتوبر 2026 - 17:14
آبنائے ہرمز کا انتظام ایک عظیم قومی دولت اور سرمایہ ہے / تیل کی قیمتیں ٹرمپ کے قابو سے خارج ہیں، میجر جنرل رضائی

جنرل رضائی نے کہا: ہمارا مطلب صرف گذرگاہ بند کرنا اور گذرنے کی فیس وصول کرنا نہیں ہے؛ ہمارے مفادات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہم آبنائے ہرمز میں مناسب اقتصادی کام کر سکتے ہیں اور گذرنے والے بحری جہازوں سے سلامتی، بیمہ اور ماحولیات کے اخراجات وصول کر سکتے ہیں؛ لیکن "آبنائے ہرمز کے انتظام کا سرمایہ" ہمارے لئے اس سے کہیں زیادہ ہے اور وہ ہے سلامتی کا کنٹرول۔/ تیل کی قیمتیں ٹرمپ کے قابو سے خارج ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں آبنائے ہرمز سے تیل کی منتقلی کے لئے امریکی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:

• آبنائے ہرمز پر ہمارا انتظام ایک عظیم قومی دولت اور ایک عظیم قومی سرمایہ ہے۔ ہمارا مطلب صرف گذرگاہ بند کرنا اور گذرنے کی فیس وصول کرنا نہیں ہے؛ ہمارے مفادات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہم آبنائے ہرمز میں مناسب اقتصادی کام کر سکتے ہیں اور گذرنے والے بحری جہازوں سے سلامتی، بیمہ اور ماحولیات کے اخراجات وصول کر سکتے ہیں؛ لیکن "آبنائے ہرمز کے انتظام کا سرمایہ" ہمارے لئے اس سے کہیں زیادہ ہے اور وہ ہے سلامتی کا کنٹرول۔

• تجربے نے ہمیں سکھایا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز پر ایران کا انتظام نہ ہو، تو خلیج فارس محفوظ نہیں ہوگا۔

• موجودہ صورتحال جنگ، امریکیوں کی موجودگی اور اس شس پیدا ہونے والی بدامنی کی وجہ سے ہے؛ ورنہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کھلا تھا، اور کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

• واشنگٹن اور اس کے علاقائی اتحادی آبنائے ہرمز کی مشکلات کی بنیادی جڑ ہیں؛ مستقبل میں بھی آبنائے ہرمز کا انتظام ہمارے پاس ہوگا تاکہ خطے میں امن و سلامتی قائم رہے اور ہم اپنے اس اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اصل مسئلہ آبنائے ہرمز کے ایرانی انتظام کا استحکام ہے

• ٹرمپ کہتا ہے کہ وہ تیل منتقل کر رہا ہے؛ لیکن گیس، ہیلیم اور کیمیائی کھاد کا کیا ہوگا؟ یہ اشیاء تو نہیں گذر رہی ہیں۔ جنگ سے پہلے، کم از کم 100 بحری جہاز جو تیل، گیس اور توانائی اور تیل کی مصنوعات لے کر جاتے تھے، اس راستے سے گذرتے تھے؛ اب کتنے جہاز گذرتے ہیں؟

• موجودہ جہازرانی کا کچھ حصہ ہمارا اپنا ہے جس کا ہم انتظام کرتے ہیں اور اس طریقے سے، ہم اناج، اشیائے ضرورت اور بنیادی سازوسامان درآمد کرتے ہیں۔

• اہم مسئلہ آبنائے ہرمز کا انتظام ہے؛ چاہے جب ہم اسے بند کرتے ہیں اور چاہے جب وہ کھلا ہوتا ہے؛ جب آبنائے ہرمز کھلا ہے، تو ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ عالمی تجارت کی سلامتی کا قیام عمل میں لائیں اور جب جنگ اور بدامنی پیدا ہوتی ہے، تو ہم اس کا انتظام آبنائے بند کر کے، کرتے ہیں۔

• اس صورتحال کے جاری رہنے سے، آبنائے ہرمز کا ایرانی انتظام مستحکم ہو گیا ہے اور دشمنوں کے اقدامات نے ہمارے انتظام کو کو مزید مستحکم کیا ہے۔

تیل کی قیمتیں ٹرمپ کے قابو سے خارج ہیں

• ٹرمپ کے جھوٹے دعوؤں کا تیل کی قیمت پر کوئی اثر نہیں پڑا اور تیل کی قیمت اب بھی 100 ڈالر کی حد میں اتار چڑھاؤ کی حالت میں ہے۔

•  امریکہ میں ڈیزل کی کمی نے امریکہ ڈیزل حاصل کرنے کے لئے روس سے رجوع کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

• دنیا کے تیل کے ذخائر کم ہو گئے ہیں، قیمتیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں اور افراط زر اور مہنگائی میں اضافہ ہؤا ہے۔

• یہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے اثرات ہیں جس کی بندش کے اسباب انہوں نے خود فراہم کئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha